میرے شوہر کے دوست اشتیاق نے مجھے چودا

میرے شوہر کے دوست اشتیاق نے مجھے چودا

میں دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود بہت زیادہ سیکسی تھی اور اکثر لڑکے اور مرد میری چدائی کے خواہشمند تھے لیکن میں کسی کے ہاتھ نہ آتی تھی ۔میرے میاں کی خواہش تھی کہ میں اس کے کسی دوست کا بڑا اور موٹا تازہ لن دیکھوں اسے ہاتھ میں پکڑوں اور چوت بھی اس کے حوالے کروں ۔میں میاں کے علاوہ کسی کے بارے میں خیال نہ کرتی تھی لیکن جب میاں نے مجھے گندی فلمیں دکھا کر بڑے بڑے سائز کے موٹے لن دکھائے اور اپنے ایک دوست اشتیاق کے لن کے سائز کے قصے بتائے تو میں نے رسک لینے کا فیصلہ کر لیااور موقع کی تلاش کرنے لگی کیونکہ ظاہر سی بات ہے جب میرا میاں مجھے چدوانا چاہتا تھا تو میرے لیے کیا غلط تھا لیکن اپنے میاں کے کسی دوست کو یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ مجھے اپنے ہتھیار کی سیر کرائے ۔اشتیاق کا ہمارے گھر میں آن جان تھا لیکن وہ اکثر میرے میان کی موجودگی میں آتا تھا ،اشتیاق کے لن کی تعریفیں سن سن کر میں نے اشتیاق کی طرف اسی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا اور ایسی نظروں کا استعمال کیا کہ اشتیاق کا دل بھی للچانے لگا ۔پھر ایک دن جب اشتیاق ہمارے گھر آیا ہوا تھا میں نے میاں سے نظریں بچا کراشتیاق سے ہاتھ ملایا اور اسے دبایا ۔جس کا مطلب ایک مرد کے لیے سمجھنا مشکل نہ تھا ۔اس کے دو دن بعد اشتیاق نے مجھے فون کیا اور کہا کہ بھابھی آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں جواب میں میں نے بھی کہا کہ تم بھی بہت سمارٹ ہو ،اسی طرح فون پر گپ شپ کا سلسلہ چل نکلا ۔اشتیاق شادی شدہ تھا اس لیے خود بخود سیکس کے موضوع پر بھی باتیں ہوتی رہیں اور اس دوران اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو میاں کیسے کرتا ہے ،کتی دیر کرتا ہے ،اس کا لن کتنا بڑا ہے ،انہی سیکسی باتوں کے دوران اس نے بتایا کہ اس کا لن ایک فٹ سے تین انچ کم ہے تو میں حیران ہونے کے ساتھ ساتھ اس بڑے لن کو دیکھنے کی خواہش مند بھی ہو گئی لیکن منہ سے نہ بول سکی البتہ میں نے کہا کہ اتنا بڑا تمہاری بیوی لیتی کیسے ہے تو اس نے جھٹ سے کہا کہ وہ بھی لیتی ہے اور آپ بھی لے سکتی ہیں میں اس قدر برجستہ جواب کے لیے تیار نہ تھی لہذا میرے منہ سے نکلا اف میرے اللہ ۔۔۔تو اشتیاق کہنے لگا کہ بھابھی ایک مرتبہ صرف ایک مرتبہ اپنے میاں کے دوست کا لن لیں ۔میں نے منع کیا لیکن وہ مسلسل کئی دن تک اپنے لن کے قصے سناتا رہا اور بتاتا رہا کہ کئی جوان عورتیں اس کے لن کی عاشق ہیں ۔۔۔۔پھر ایک دن اس کی قسمت جاگی اور وہ دن کے وقت ہمارے گھر آیا اس وقت بچوں سمیت گھر میں میرے سوا کوئی نہ تھا ۔میں نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور شربت بنا کر دیا میں نے یہ محسوس نہ ہونے دیاکہ گھر پہ کوئی نہیں لیکن دل کے کسی کونے سے شائد میں ب ھی چاہتی تھی کہ وہ کوئی بات کرے اور کم از کم اپنا لن ہی دکھا دے ۔دل کو دل سے راہ ہوتی ہے جب میں شربت کا خالی گلاس اٹھانے لگی تو اس نے میرے آگے ہاتھ جوڑ دیئے اور کہا کہ بھابی ایک مرتبہ مجھے مزے کروا دو لیکن میں نے کہاکہ نہیں کبھی نہیں تو وہ بولا کہ اچھا صرف کسنگ کرنے دیں جس پر میں نے شرط عائد کی کہ وہ کسنگ کے علاوہ کچھ نہیں کرے گا اور یہ بات کسی سے کہے گا بھی نہیں تو اس نے حامی بھر لی ۔میرا یہ خیال تھا کہ اس سے کسنگ کرواتے ہوئے اس کے لن کا سائز بھی دیکھ لوں گی لیکن اس سے آگے کچھ نہیں کروں گی ۔میں گلاس سائیڈ پر رکھنے کے بعد اس کی جانب بڑھی تو اس نے بغیر انتظار میرے منہ اور ہونٹوں پر کسنگ شروع کر دی اشتیاق تھا بھی بہت سمارٹ اس لیے اس سے کسنگ کروانا مجھے اچھا لگ رہا تھا اس دوران اس نے گردن پر بھی کسنگ کی جس سے میں تھوڑی بے خود ہو گئی جسے بھانپتے ہوئے اس نے مجھے بھینچ لیا اور گلے سے چمٹا لیا ۔اس صورتحال سے اس کا نوانچ لمبالن میرے جسم سے ٹکرانے لگا اور میں مزید مزے میں آ گئی میری حالت دیکھتے ہوئے اس نے مجھے گھمایااور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے بریسٹ پکڑ لیے جبکہ اپنا لن میری بڑی بنڈ کے درمیان رکھ دیا جو کہ میری چوت کو ٹکرا رہا تھا اس دوران میں نے بھی اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا اور اس کے ہاتھوں کو کس کر اپنے بریسٹ پر رکھ دیا میں فل مزے میں تھی اور یہ سلسلہ مزید بڑھانا چاہتی تھی اس لیے دروازے کو تھوڑا سا بند کر دیا تو اشتیاق نے پوچھا کہ باقی گھر والے کدھر ہیں تو میں نے اسے بتا یا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے یہ سن کر اسکے حوصلے بلند ہوئے اور اس نے کھل کر اپنا کام شروع کر دیا اور میرا منہ اپنی جانب کر کے میرا ہاتھ اپنے موٹے لن پر رکھ دیا جسے میں نے فوراً پکڑ لیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ اس کا لن میرے گمان سے زیادہ بڑا تھا میں اس کے لن کے ساتھ کھیل رہی تھی اور وہ میرے بنڈ مسل رہا تھا کہ اچانک اس نے مجھے قالین پر بٹھایا اور اپنی شلوار اتار کر لن باہر نکال لیا جسے دیکھ کر میری چیخ نکل گئی کیونکہ وہ سائز میں میرے میاں کے لن سے تقریباً تین گنا بڑا تھا پھر اشتیاق نے مجھے لن منہ میں لینے کا اشارہ کیا میں نے اگرچہ آج تک میاں کا لن منہ میں نہیں لیا لیکن اس لن میں پتہ نہیں کیا بات تھی کہ میں فوراً تیار ہو گئی اور لن منہ میں لینے لگی اشتیاق میرا سر پکڑ کر آگے کرتا رہا تاکہ میں پورا لن منہ میں لے جا سکوں لیکن میں ایسا نہ کر سکی ۔اس دوران میں مکمل گیلی ہو چکی تھی اور اب میری چوت لن اندر سمونے کا انتظار کر رہی تھی ۔اشتیاق نے تب میری قمیض اتروانا چاہی لیکن میں نے منع کر دیا تو اس نے پہلے کی طرح اوپر اٹھی قمیض سے میرے بریسٹ کو چوسنا شروع کر دیا ۔اشتیاق نے کہا کہ بھابھی کیابیڈ روم میں چلیں تو میں نے کہا کہ نہیں یہیں صوفے پر کر لو ۔اس نے میری شلوار نیچی کی اور مجھے گھوڑی بنا کر اپنی پوزیشن سنبھال لی تو میں نے اسے کہاکہ اپنی بھابھی کے اندر آرام سے ڈالنا کیونکہ یہ سائز میں بہت بڑا ہے اس نے اپنا لن پہلے میری بنڈ اور چوت پر مسلا اور کچھ دیر کے بعد آہستہ آہستہ اندر ڈالنے لگا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے درد بھی برداشت کرنا پڑے گا لیکن بھلا ہو اس کا کہ اس نے نہایت آہستگی سے اپنالن اندر ڈالا اور اسے کافی دیر تک آگے پیچھے کرتا رہا جس سے میرا سوراخ اس قابل ہو گیا کہ زندگی میں پہلی بار انتہائی بڑے لن کے مزے لے سکوں کچھ دیر کے بعد میں نے بھی اس کا ساتھ دینا شروع کیا تو اس نے جھٹکوں کی رفتار بڑھا دی جس سے میرا مزا دوبالا ہو گیا اور ایسا لگا کہ زندگی میں پہی بار سیکس کیا ہو یہ لمبا لن ایسے لگا کہ میرے پیٹ کو پھاڑ دے گا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ مجھے بہت ہی زیادہ مزہ آیا اور سوچنے لگی کہ میں نے پہلے اپنے میاں کی تجویز کیوں نہ مانی کافی دیر بعد اشتیاق میرے اندر ہی ڈسچارج ہو گیا اور مجھے ایسے لگا کہ میرے اندر طاقت اور توانائی بھر گئی ہے ۔اس کے بعد میں نے کپڑے پہن لیے اور اس نے بھی واش روم جا کر اپنے آپ کو صاف کیا اور مجھے کافی لمبی کس کرنے کے بعد روانہ ہو گیااس دن میں ایک نئی لڑکی لگ رہی تھی اور ایسے لگ رہا تھا کہ اشتیاق کے لن نے میرے بدن میں پھرتی بھر دی ہے۔اس تبدیلی کو میرے میان نے بھی محسوس کیا اور مجھ سے پوچھا بھی لیکن میں نے ٹال دیا ۔میرے میاں نے مجھے کہاکہ آج تم بہت زیادہ سیکسی لگ رہی ہو اس لیے رات کومیرے پاس آنا ۔رات کو میں اپنے میاں کے پاس بھی گئی اور اس کی پیاس بھی بھجائی ۔ اس کے بعد اشتیاق نے کئی بار مجھے میرے ہی گھر میں چودا اور ہر طریقہ استعمال کیا جس سے میں نے بھرپور لطف اٹھایا اس سے چدنے کے بعد میں واقعی مزید سیکسی ہو گئی تھی کیونکہ اب میں اپنے میاں کو خود کہتی تھی کہ میں اس کے پاس آنا چاہتی ہوں یہی وجہ ہے کہ میں اپنے میاں اور اس کے دوست دونوں کو خوش کرتی رہی ۔یہ سلسلہ تقریباً اڑھائی سال چلتا رہا اور اشتیاق نے اس دوران شائد میرے میاں سے زیادہ مجھے چودا ۔دو مرتبہ وہ مجھے اپنے دوست کے خالی مکان میں لے کر بھی گیا جہاں اس نے مجھے اپنے دوست سے متعارف کرایا جس نے مجھے چودا بھی بلکہ ایک مرتبہ ان دونوں نے مجھے اکٹھے بھی چودا